11 جولائی، 2026، 8:41 AM

اقوام متحدہ: سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، ایرانی مندوب

اقوام متحدہ: سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، ایرانی مندوب

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے غیرقانونی اقدامات کے تمام نتائج کے مکمل ذمہ دار ہیں اور انہیں بین الاقوامی قانون کے تحت جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران روس اور چین کے اس اصولی مؤقف کو سراہتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے قرارداد 2231 سے متعلق اجلاس کے انعقاد کی مخالفت کی، کیونکہ یہ اجلاس کسی قانونی بنیاد کا حامل نہیں تھا۔

انہوں نے پاکستان اور صومالیہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اجلاس کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ ایروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231، 18 اکتوبر 2025 کو اپنی مدت پوری کر چکی ہے، اس لیے اس کی کوئی قانونی یا عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کے تحت قائم تمام اختیارات، رپورٹنگ کی ذمہ داریاں اور طریقہ کار ختم ہو چکے ہیں، لہٰذا سیکریٹری جنرل کی رپورٹ، سیکریٹریٹ کی بریفنگ اور سلامتی کونسل میں اس موضوع پر بحث کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

ایروانی نے کہا کہ سیکریٹری جنرل کی رپورٹ اور اقوام متحدہ کی نائب سیکریٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو کی بریفنگ اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے منافی تھی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ قرارداد 2231 کو کسی بھی بہانے یا طریقۂ کار کے ذریعے مؤثر ظاہر کرنے کی ہر کوشش قانونی طور پر باطل ہے اور یہ سلامتی کونسل کے اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔

ایروانی نے کہا کہ ایران کا نام نہاد اسنیپ بیک یا خودکار پابندیوں کی بحالی کے طریقۂ کار کے بارے میں مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے، جس سے چین اور روس بھی متفق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے جوہری معاہدے اور قرارداد 2231 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں بلکہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی بھی حمایت کی، اس لیے انہیں ایران کے خلاف کسی قانونی اقدام کا کوئی حق حاصل نہیں۔

ایروانی نے کہا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 2018 میں امریکہ کا معاہدے سے غیرقانونی انخلا، یورپی ممالک کی وعدہ خلافی اور جون 2025 اور 28 فروری 2026 کو ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے ہیں۔ یہ حملے اقوام متحدہ کے منشور کی شق 2(4) اور طاقت کے استعمال پر پابندی کے بنیادی اصول کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور انہوں نے عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ایروانی نے کہا کہ امریکی صدر خود ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں، جبکہ یورپی ممالک نے بھی ان اقدامات کی حمایت کی، اس لیے ایران کے خلاف ان کے الزامات کسی اخلاقی یا قانونی حیثیت کے حامل نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران 1970 سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا ذمہ دار رکن ہے، اس کا جوہری پروگرام ہمیشہ پرامن رہا ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں چلایا جاتا رہا ہے۔

ایروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی، جس سے بین الاقوامی قانون کی مزید خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے تمام غیرقانونی اقدامات کے مکمل ذمہ دار ہیں اور انہیں ان کے نتائج پر مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

ایروانی نے کہا کہ امریکہ نے 7 اور 8 جولائی کو جنوبی ایران اور خلیج فارس کے بعض ایرانی جزیروں پر حملے کر کے نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور بلکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی بھی صریح خلاف ورزی کی، جس کے تحت امریکہ نے ایران کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، راستے کی بحالی اور بارودی سرنگوں کی صفائی کی مکمل ذمہ داری صرف ایران کے پاس ہے، اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے معاہدے پر عمل درآمد، بحری سلامتی اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچے گا۔

ایروانی نے آخر میں کہا کہ ایران اب بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر نیک نیتی سے عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، بشرطیکہ امریکہ بھی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے۔ تاہم اگر واشنگٹن اپنی خلاف ورزیاں جاری رکھتا ہے تو ایران بھی خود کو اس یادداشت کی پابندی کا پابند نہیں سمجھے گا۔

News ID 1940242

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha